HOME PAGE
HOME PAGE

اساتذہ

مولانا امين احسن اصلاحى

یہ جناب جاوید احمد صاحب غامدی کی تحریر ہے جو ان کی کتاب مقامات سے لی گئی ہے۔

علم کا جلال و جمال فقر کا وقار عجز کی تمکنت مجسم استغنا سراپا محبت خدا کے آخری الہام کا عہد فریں شارح دین و شریعت میں ایک نئی دنیا کا نقیب صاحب طرز انشا پرداز صاحب طرز خطیب حسن تکلم کا وہ انداز کہ وہ کہیں اور سنا کرے کوئی
 

مثل خورشید سحر فکر کی تابانی میں

بات میں سادہ و آزادہ معانی میں دقیق
 

میں نے امین احسن کو سب سے پہلے 1973 ء میں دیکھا او رپھر کسی اور طرف نہیں دیکھا- میرے لیے اس وقت ان کا دروازہ "در نکشودہ" ہی تھا لیکن میں نے ہمت کی اور اسی بند دروازے پر بیٹھ گیا۔ امین احسن اصلاحی اسی نابغہ عصر کے جانشین ہیں- وہ اپنے استاد مولانا حمید الدین فراہی سے آگے نہیں بڑھے تو پیچھے بھی نہیں رہے- حمید الدین جس مقام پر پہنچے تھے ان کی ساری عمر اسی کے اسرارورموز کی وضاحت میں گزری ہے- ان کی تدبر قرآن تفسیر کی کتابوں میں ایک بے مثال شہ پارہ علم و تحقیق ہے-اب یہ آخری نشانی بھی دنیا میں نہیں رہی

امین احسن کیا تھے اب سے کئی برس پہلے جب اس شہر کے کچھ مذہب فروشوں نے ان کا مقام معتقدین کی تعداد سے متعین کرنا چاہا تو میں نے ان کی خدمت میں عرض کیا تھا مجھے اپنے بارے میں تو کچھ نہیں کہنا کہ میرا سرمایہ فخر اگر کچھ ہے تو بس یہی ہے کہ مجھے امین احسن سے شرف تلمذ حاصل ہے لیکن جہاں تک امین احسن کا تعلق ہے تو میں یہ عرض کر دینا چاہتا ہوں کہ اس کی تگ و دو کا ہدف وہ چیزیں کبھی رہی ہی نہیں جن پر یہ لوگ جیتے اورمرتے ہیں- ان زخارف کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھنا بھی اس نے ہمیشہ اپنی شان سے فروتر سمجھا ہے- لوگوں میں مقبولیت حاصل کرنے کے وہ طریقے جو ان حضرات کے لیے ھنیئا مریئا ہیں ان کا ذکر بھی کوئی شخص اگر اس کی مجلس میں کبھی کر دے تو اس کے لیے وہاں باریابی کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی- اس نے عمر بھر جس چیز کو اپنا شعار قرار دیا وہ یہ تھی کہ دمی کا سایہ بھی اگر اس کا ساتھ نہ دے تو اسے ہر حال میں حق پر قائم رہنا چاہیے- اس نے معاشرے میں پھیلی ہوئی فکرو عمل کی سب غلاظتوں کو جمع کر کے انھیں دلائل فراہم نہیں کیے دل و دماغ کو ان غلاظتوں سے پاک کرنے کی سعی کی ہے- وہ لوگوں کے ساتھ ہر پستی میں نہیں اترتا انھیں ان بلندیوں کی طرف بلاتا ہے جن پر وہ اپنے شعور کے پہلے دن ہی سے فائز رہا ہے- اس کی دنیا علم و دیانت کی دنیا ہے مذہبی بہروپیوں اور سیاسی بازی گروں کے لیے اس دنیا میں کوئی جگہ پیدا ہی نہیں کی جا سکتی- وہ اپنے ذرہ ہستی میں ایک صحرا اور اپنے وجود میں ایک سمندر ہے- اس کی اپنی اقلیم ہی میں اس کے لیے اتنے مشاغل ہیں کہ اس طرح کی چیزوں کے لیے اس کے پاس کوئی وقت نہیں ہوتا - اس نے جس میدان میں عمر بھر محنت کی ہے وہ پیری مریدی کا نہیں علم و تحقیق کا میدان ہے- اس کی محنت کا حاصل اگر کسی شخص کو دیکھنا ہو تو وہ اس شہ پارہ علم و تحقیق کو دیکھے جسے اب دنیا تدبر قرآن کے نام سے جانتی ہے- وہ بندہ امروز نہیں مرد فردا ہے اور اس کا زمانہ اب بہت زیادہ دور نہیں رہا
 

جاوید احمد غامدی _____

 
     

Copyright © ghamidi.net All rights reserved