HOME PAGE
HOME PAGE

رفقاء

       

 

                                    


معز امجد

جناب معز امجد27 دسمبر 1962کو پیدا ہوئے۔ پنجاب یونیورسٹی سے ایم بی اے کی ڈگری گولڈ ميڈل كے ساتھ حاصل کی۔ 1988ء میں جناب جاوید احمد غامدی صاحب کے تلامذہ میں شامل ہوئے۔ ان دنوں غامدی صاحب کے تشکیل کردہ ادارے میں ایسوسی ایٹ فیلو کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ 1997ء تا 1999ء ماہنامہ اشراق کی ادارت کے فرائض ادا کیے۔ 1997ء میں انھوں نے دینی موضوعات پر سوال و جواب کی ویب سائٹ قائم کی
 

www.understanding-islam.com


 

یہ ویب سائٹ نہایت کامیابی سے اپنا کام کر رہی ہے۔ 2003ء میں انھوں نے اردو میں بھی سوال و جواب کے لیے قائم سائٹ کی

 

www.urdu.understaning-islam.org

 

1997ء تا 1999ءمیں غامدی صاحب کے قائم کردہ ادارے دانش سرا میں بحیثیت ناظم کام کیا۔ مصعب پبلک اسکول کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے وائس پریذیڈنٹ بھی ہیں۔ صدر المورد کے عہدے پر 1996ء تا 1997ء تعینات رہے۔ المورد ادارہ ء علم و تحقیق کے شعبہ ء تحقیق کے ناظم کے فرائض 1993ءتا 1995ء دیتے رہے۔

واپس

شہزاد سلیم

جناب شہزاد سلیم  18جون 1966 کو لاہورمیں پیدا ہوئے۔سینٹ میریز اکیڈمی راولپنڈی اور گورنمنٹ کالج لاہور سے ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد  1990میں انجنیرنگ یونیورسٹی لاہور سے الیکٹریکل انجنیرنگ میں بی ایس سی کی ڈگر ی حاصل کی۔ اور آج کل یونیورسٹی آف ویلز برطانیہ کے تحت تاریخ القرآن پر پی ایچ ڈی کا مقالہ تصنیف کر رہے ہیں۔ اس سے قبل  1988ہی میں وہ جاوید احمد صاحب غامدی سے متعلق ہو کر اسلامی علوم و فنون میں تحصیل علم کا آغاز کر چکے تھے۔ جس کا سلسلہ تا حا ل جاری ہے۔

 

1991 سے المورد سے باقاعدہ منسلک ہیں۔ اور اس کے بہت سے تعلیمی تحقیقی اور انتظامی شعبوں میں اپنی خدمات انجام دے چکے ہیں۔1991 میں بزبان انگریزی ماہنامہ رینیساں )www.monthly-renaissance.com( کا آغاز کیا اور تاحال اس کی ادارت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ اسی طر ح ادارہ المورد کی تعلیمی اور انتظامی سربراہی کا فریضہ بھی بطریق احسن نبھاتے رہے ہیں۔1999سے 2001تک المورد میں قرآنیات کی تدریس کرتے رہے۔
 

 جولائی 2003میں انہوں نے فاصلاتی تعلیم کیلئے ایک ویب سائٹ سٹیڈنگ اسلام (www.studying-islam.org) کا آغاز کیا جس سے اب تک سینکڑوں طلبا اسلامی تعلیم کی روشنی حاصل کر چکے ہیں۔
 

2005 میں انھوں نے مدرسہ فراہی کے نامور محقق امین احسن اصلاحی کے حیات و افکار پر ایک ویب سائٹ (www.amin-ahsan-islahi.org) شروع کی۔ وہ بہت سے تصنیفی منصوبوں پہ بھی کام کرتے رہے ہیں جن میں سے غامد ی صاحب کی تصانیف البیان اور میزان کا ترجمہ اور ان کے افکار کی بنیاد پر بہت سے مضامین اور کتابچوں کی تکمیل زیادہ اہم ہیں۔ مولانا اصلاحی کی تدبر قرآن کی منتخب سورتوں کو بھی انگریزی زبان میں ڈھال چکے ہیں۔گذشتہ چند برسوں سے تاریخ القرآن کے موضوع پر تفصیلی تحقیقی کام سرانجام دے رہے ہیں۔ 

واپس
 

منظور الحسن

جناب سید منظور الحسن کی پیدایش 3 جون 1965ء کو بہاول نگر میں ہوئی۔ گورنمنٹ سٹی ہائی اسکول بہاولنگر سے میٹرک اور گورنمنٹ کالج بہاولنگر سے بی اے کا امتحان پاس کیا۔ بعد ازاں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ایم اے سیاسیات اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے ایم اے اسلامیات کی ڈگری حاصل کی ۔ میٹرک کے زمانے کے استاد جناب محمد نذر صاحب کے فیض تربیت سے اسلام کی خدمت کا جذبہ پیدا ہوا اور کالج کے زمانے کے استاد جناب محمد ظفر عادل کی رہنمائی سے جناب جاوید احمد صاحب غامدی کے افکار سے روشناس ہونے کا موقع ملا۔ غامدی صاحب کے ادارے المورد کو دین کی خدمت کے لیے موزوں پایا اور 1992ء میں اس سے باقاعدہ وابستگی اختیار کی ۔ اس وابستگی کے بعد جناب جاوید احمد صاحب غامدی سے کسب فیض کا سلسلہ شروع ہوا اور جستہ جستہ اسلامی افکار کی تعلیم اور اردو زبان میں تصنیف و تالیف کی تربیت حاصل کی ۔
 

ان دنوں غامدی صاحب کے زیرسرکردگی چلنے والے ادارے المورد کے نشرو اشاعت میں مدیر اردو اور ناطم شعبہء نشرو اشاعت کی حیثیت سے وابستہ ہیں اس کے علاوہ غامدی صاحب کے رسالے ماہنامہ اشراق کے نائب مدیر کے فرائض بھی انجام دے رہے ہیں ۔
 

اہم تصانیف اور مضامین و مقالات حسب ذیل ہیں۔
 

اسلام اور موسیقی ـــــــــــ جاوید احمد غامدی کا نقطہ نظر o
اسلام اور مصوری ـــــــــــ جاوید احمد غامدی کا نقطہ نظر o
برزخ ـــــــــــ جاوید احمد غامدی کا نقطہ نظر o
اجتہاد ـــــــــــ جاوید احمد غامدی کا نقطہ نظر o
اخلاقی جارحیت o
قربانی o
زکوٰۃ پر تملیک کی شرط o
دہشت گردی ـــــــ علما کی اصل ذمہ داری o
استحکام پاکستان o
اہل سیاست اور سیاسی استحکام o
روزے کے اثرات o
لیلۃ القدر o
کیا اللہ کی نصرت غیر مسلموں کے ساتھ ہے ؟ o
قومی تعمیر و ترقی کا صحیح راستہ o
مسلمانوں کا مسئلہ o
قومی تعمیر میں مذہبی قیادت کا کردار o
اہل سیاست اور سیاسی استحکام o
دور جدید میں اسلام کی شرح و وضاحت o

واپس

طالب محسن

جناب طالب محسن کی پیدایش پاک پتن میں 1959ء میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم پاک پتن ہی سے حاصل کی۔ میٹرک کا امتحان لاہور سے پاس کیا۔ 1981ء میں ایف سی کالج سے گریجوایشن کی۔اسلامیات میں ماســٹرز پنجاب یونیورسٹی سے کیا۔غامدی صاحب سے دینی اعتبار سے تعلق دوران تعلیم ہی میں قائم ہو گیا۔ غامدی صاحب کے ابتدائی شاگردوں میں سے ہیں۔ان سے نحو وادب اور دوسرے علوم اسلامیہ کی تعلیم حاصل کی۔
 

غامدی صاحب کے قائم کردہ اداروں الانصار المسلمون ، دانش سرا ،اور المورد کی تشکیل میں پوری طرح شامل رہے۔ ماہنامہ اشراق کی ابتدا ہی سے اس کے ساتھ متعلق ہو گئے اور ایک عرصے تک نائب مدیر کی خدمات سر انجام دیتے رہے ۔ المورد میں تصنیف و تالیف کے ساتھ ساتھ تدریس و تعلیم کے فرائض بھی ادا کیے۔
 

گزشتہ عرصہ میں کئی علمی موضوعات پر کام کیا، جن میں مشکوۃ کی شرح نمایاں ہے۔ ان دنوں المورد کے شعبہ علم و تحقیق میں ایسوسی ایٹ فیلو کی حیثیت سے ذمہ داریاں انجام دے رہے ہ

واپس

محمد رفیع مفتی

جناب محمد رفیع مفتی 9 دسمبر 1953 کو وزیر آباد میں پیدا ہوئے۔ بی ایس سی تک دنیوی تعلیم حاصل کی۔ پھر گلیسکو لیبارٹریز لمیٹڈ میں ملازمت اختیار کی۔ 1976ء میں جناب جاوید احمد صاحب غامدی سے متعارف ہوئے۔ ایک عرصہ تک ان سے عمومی استفادے کا سلسلہ جاری رہا۔ پھر 1984ء سے باقاعدہ دین کا علم حاصل کرنا شروع کیا۔ ملازمت کو جب طالب علمی کی زندگی میں رکاوٹ پایا تو اسے چھوڑ دیا۔ حدیث کی تعلیم اہل حدیث علما اور فقہ اور اصول فقہ کی تعلیم حنفی علما سے حاصل کی۔ عربی ادب کی تعلیم جاوید احمد صاحب غامدی سے حاصل کی۔ 1991ء سے المورد سے باقاعدہ منسلک ہیں۔ کچھ عرصے سے لاہور میں مختلف مقامات پر دروس قرآن و حدیث کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اہم مضامین اور مقالات حسب ذیل ہیں۔
 

ش رسول اللہ کے نکاح
ش تصویر کامسئلہ
شظہور مہدی

واپس

ساجد حمید

جناب ساجد حمید کی پیدايش 10اکتوبر 1965 كو پاکپتن میں ہوئی۔ پنجاب یونیورسٹی سے اردو اور اسلاميات مين ایم اے كيا۔ دینی تعلیم کا سلسلہ بی اے کے بعد اپنے بڑے بھائی طالب محسن صاحب سے ابتدائی عربی سیکھنے سے شروع ہوا۔ مزید دینی علوم کی تحصیل کے لیے 1987ء میں جاوید احمد صاحب غامدی کے آگے تلمذ کے زانو طے کیے۔ یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ غامدی صاحب سے قرآن و حديث، نحو و ادب اور دوسرے علوم اسلاميہ كى  تعليم حاصل كى ۔ 1992ء سے غامدی صاحب كى  زير سر كردگي چلنے والے ادارے المورد سے وابستہ ہیں۔
 

مولانا امین احسن اصلاحی سے بھی شرف تلمذ حاصل رہا ہے۔ مولانا کے درس قرآن و حدیث میں شریک رہے ہیں۔ اصلاحی صاحب سے قرآن کے ذیل میں سورہء فاتحہ سے سورہء انعام تک، حدیث کے ذیل میں موطا کتاب الجامع سے آخر تک اور بخاری کی کتاب البیوع پڑھیں۔
 

مزید برآں حدیث کے ایک بڑے عالم، حافظ عطاالرحمن مرحوم سے موطا امام مالک اور فن رجال پر ابن حجر کی كتاب نزہۃ الفکر پڑھی۔ فن رجال کی مشق کے لیے مسلم کی کچھ روایتوں پر کام بھی کیا۔ اہم تصانيف حسب ذيل ہيں۔
 

س ہم پر مشکلیں کیوں آتی ہیں؟
س بدگمانی کیا ہے، اس سے کیسے بچیں؟
س صبر کیا ہے، اسے کیسے حاصل کریں؟

واپس


محمد سمیع مفتی
 

جناب محمد سمیع مفتی 24 اکتوبر 1959 کو وزیر آباد ضلع گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے ۔1974 ء میں اپنے خاندان کے ساتھ لاہور منتقل ہو گئے۔ 1975 میں میٹرک کا امتحان پاس کیا اور بعد ازاں علوم اسلامیہ میں شہادہ عالمیہ کی ڈگری حاصل کی۔ ملازمت کے سلسلے میں تیرہ سال تک سعودی عرب کے دار الحکومت ریاض میں مقیم رہے۔ ابتدائی عربی زبان تو دوران تعلیم ہی میں سیکھ لی تھی، مگر سعودی عرب میں اس سے بہت آگے بڑھ کر اہل عرب سے براہ راست عربی زبان سیکھنے کا موقع ملا۔ چنانچہ فصیح عربی زبان کے ساتھ ساتھ نجدی زبان میں بھی مہارت حاصل کی ۔ علاوہ ازیں جدید عربی زبان کے دیگر لہجوں سے بھی روشناس ہوئے۔ عرب علما سے براہ راست استفادہ کرتے رہے۔ کنگ سعود یونیورسٹی کے اردو ڈیپارٹمنٹ کے لیے غیررسمی طور پر ایک سال تک کام کیا اور عربوں کے لیے اردو زبان کا کورس تیار کرنے میں معاونت کی۔ جناب جاوید احمد صاحب غامدی کے ساتھ تعارف 1978سے تھا، مگر شاگردی کا تعلق 1994 میں المورد سے وابستگی کے بعد قائم ہوا۔المورد سے ُوابستگی کے بعد چار سال تک بنیادی عربی زبان کی تدریس کی۔ مصعب اسکول سسٹم میں عربی زبان اور قرآن کے استاد کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ اس وقت المورد کے شعبہء نشرواشاعت میں معاون مدیر کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ جناب محمد سمیع مفتی نے تصنیف وتالیف کے میدان میں ترجمہ اور تدوین کے بھی مختلف کام انجام دیے۔ ان میں سے چند نمایاں کام حسب ذیل ہیں۔
 

س1- جناب جاوید احمد غامدی کی تصانیف دین کا صحیح تصور اور قانون جہادکا عربی ترجمہ
س2- حدیث کے عالم حافظ عطاء الرحمن صاحب کی موطا کے رجال پر تصانیف کی تدوین
س3- عربی زبان کی معروف کتاب معلم لغۃ القرآن کی تدوین
س4- اقبال اکادمی کے سالانہ عربی مجلے اقبالیات سال 2004 اور 2005 کے شماروں کی تدوین

واپس


عمار خان ناصر

جناب عمار خان ناصر 10 دسمبر 1975 کو گوجرانوالہ کے قصبہ گکھڑ میں ملک کے ایک معروف دینی و علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے دادا مولانا محمد سرفراز خان صفدر کو دیوبندی مسلک کا علمی ترجمان سمجھا جاتا ہے جبکہ ان کے والد مولانا زاہد الراشدی ایک نہایت متوازن رویہ رکھنے والے مذہبی اسکالر اور دانش ور کے طور پر معروف ہیں۔ عمار خان ناصر نے ابتدائی مذہبی تعلیم مدرسہ انوار العلوم گوجرانوالہ میں حاصل کی اور 1994ء میں مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ سے روایتی دینی علوم سے باقاعدہ فراغت حاصل کی۔ اس کے بعد عصری تعلیم کی طرف متوجہ ہوئے اور 2001ء میں پنجاب یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ایم اے کا امتحان پاس کیا۔ 1989ء سے 2000ء تک الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے مجلہ ماہنامہ الشریعہ کے معاون مدیر رہے اور اب اس کے باقاعدہ مدیر کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ 1996ء میں امام ابوحنیفہ اور عمل بالحدیث کے نام سے ایک علمی کتاب تصنیف کی۔ ان کے متعدد علمی و تحقیقی مضامین ماہنامہ اشراق لاہور، ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ اور ماہنامہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں شائع ہو چکے ہیں۔ حال ہی میں مسجد اقصیٰ کی تولیت کے حق کے حوالے سے ان کی ایک غیر معمولی علمی تحقیق بھی سامنے آ چکی ہے۔ عمار خان ناصر، جناب جاوید احمد غامدی سے 1990ء میں متعارف ہوئے اور غیر رسمی استفادے کا  سلسلہ 2003ء تک جاری رہا۔ جنوری 2004ء سے المورد سے باقاعدہ وابستہ ہو چکے ہیں اور فکر فراہی کے مختلف علمی پہلووں پر تحقیقی و تصنیفی کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔


 

اہم مضامین و مقالات حسب ذیل ہیں۔
مسجد اقصیٰ ، یہود اور امت مسلمہ o
ارض فلسطین پر یہود کا حق o
مسجد اقصی، یہود اور امت مسلمہ ______ تنقیدی آراء کا جائزہ o
جہاد ______جاوید احمد غامدی کے نقطہء نظر کا تقابلی مطالعہ o

 

واپس


کوکب شہزاد

محترمہ کوکب شہزاد 16اپریل 1963 كو لاہور میں پیدا ہوئیں۔ لیڈی گریفن گرلز ہائی اسکول سے میڑک کیا۔ فلسفے اور سائیکالوجی میں گریجویشن کیا۔ 1976ء میں جاوید احمد صاحب غامدی سے تعارف ہوا تو مذہب کے بارے میں غلط فہمیوں کے جو بادل ذہن پہ چھا ئے ہوئے تھے وہ آہستہ آہستہ چھٹنے شروع ہو گئے۔ 1983ء میں جب المورد کا قیام عمل میں آیا تو باقاعدہ طور پر ان کی شاگردی میں آ گئیں اور 1991ء تک عربی زبان، عربی کلاسیکل لٹریچر، فارسی زبان اور اس سے متعلق کچھ علوم اور قرآن و حدیث سمجھنے کے اصول سیکھے اور اسی میدان میں کام کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ 1985ء سے خواتین میں مختلف پلیٹ فارمز پر دین کا شعور پیدا کرنے کا کام کر رہی ہیں۔ آج کل المورد میں اسسٹنٹ فیلو کی حیثیت سے وابستہ ہیں۔ خواتین میں دین کا شعور پیدا کرنے اور اس کام میں انھیں اپنا معاون بنانے کے لیے المورد میں خواتین کی ایک کلاس لے رہی ہیں جس میں مختلف تفاسیر کا تقابلی مطالعہ کرا کر انھیں قرآن سمجھنے کے اصول بتائے جاتے ہیں اور دین کا فہم پیدا کیا جاتا ہے۔ 121 ایڈن کاٹیج بالمقابل عادل ہسپتال لاہور میں خواتین کو قرآن مجید اور سیرت پاک سے متعلق لیکچر دیتی ہیں۔ جس کا مقصد دین کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کر کے صحیح دین کا شعور پیدا كرنا ہے۔ مختلف کالجوں میں انتظامیہ کي دعوت پر لیکچر دیتی ہیں۔ طلبا کی آسانی کے لیے قرآن کے منتخب حصوں پر مبنی ایک کتاب مرتب کر رہی ہیں تاکہ ایک عام آدمی کم از کم اتنا قرآن سمجھ سکے جتنا ایک مسلمان کے لیے جاننا ضروری ہے۔ 1999ء سے پی، ٹی، وی سے ریکارڈڈ اور لائیو پروگرام کر رہی ہیں جس میں بطور مہمان، میزبان، سولو پرفارمر پنجابی اور اردو کے پروگرام کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف موضوعات پر لیکچر اور پھر ان کے سوالوں کے جواب دیتی ہیں جو بعد میں آن ایئر جاتے ہیں۔ حاضرین میں زیادہ تعداد کالجوں اور یونیورسٹی کے طلبا کی ہوتی ہے۔

واپس


محمد بلال

جناب محمد بلال 18 فروری 1965 کو ساہیوال ، فرید ٹاون میں پیداہوئے۔خاندان کا اصلاً تعلق لاہور سے ہے ۔ ابتدائی ، ثانوی اور اعلیٰ تعلیم لاہور کے مختلف اداروں سے حاصل کی۔1989 ء میں ایل ایل بی کیا۔ اسی برس جاوید احمد صاحب غامدی سے تعارف ہوا۔غامدی صاحب کے کام نے انھیں دین کی طرف شعوری طور پر راغب کیا۔پھر وکالت کا ارادہ تر ک کر دیا لکھنے لکھانے کا بچپن سے ذوق تھا۔چنانچہ اسی میدان میں دین کی خدمت کرنے کا جذبہ پیداہوا۔ 1995ء میں غامدی صاحب کے قائم کئے گئے دعوتی ادارے اسلامی مرکز میں ڈپٹی ڈائریکٹر کے طور پر مقرر ہوئے۔پھر ماہنامہ اشراق میں نائب مدیر اور مضمون نگار کے طور پر پانچ برس کام کیا ۔ اس دوران میں مختلف موضوعات پر متعدد مضامین لکھے۔انھی مضامین کا ایک انتخاب یہ وہی دور تو نہیں؟ کے نام سے کتابی شکل میں شائع ہوچکا ہے۔ اس کے علاوہ اشراق میں ان کے افسانے اور سفر نامے بھی شائع ہوئے ۔1999ء سے 2002 ء تک ایک قومی اخبار میں وسعت صحرا کے عنوان سے کالم لکھے۔2003ء سے 2004 ء تک غامدی صاحب کے دعوتی ادارے دانش سرا کے ڈائریکٹر رہے۔

 

جولائی 2004ء میں المورد کے آڈیو ویڈیو ڈیپارٹمنٹ کو میکرووژن کے نام سے ملٹی میڈیا پروڈکشنز کے کام کا آغازکیا۔

واپس

ڈاکٹر محمد فاروق خان
 

جناب ڈاکٹر محمد فاروق خان ایک دانش ور، مصنف اور کالم نگار کی حیثیت سے پورے ملک میں پہچانے جاتے ہیں۔ ٹیلی وژن کے دینی پروگراموں میں شمولیت کی وجہ سے لوگ، بالعموم، ان سے واقف ہیں۔ ڈاکٹر محمد فاروق خان ضلع صوابی کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم وہیں حاصل کی اور پھر کیڈٹ کالج حسن ابدال اور کیڈٹ کالج کوہاٹ میں تحصیل علم کی۔

اس کے بعد میڈیسن کی ڈگری لی اور پھر نفسیاتی امراض کے شعبہ میں تخصص کیا۔ وہ مردان میں پرائیویٹ پریکٹس کرتے ہیں۔ اب تک متعدد کتابیں لکھ چکے ہیں، جن میں سے پاکستان اور اکیسویں صدی ، اسلامی انقلاب کی جدوجہد، اسلام كيا ہے ، اسلام اور عورت اور جہاد بمقابلہ دہشت گردی نماياں ہیں۔ اپنی بات کو آسان ترین زبان میں لکھنے اور کہنے کا ملکہ ڈاکٹر صاحب پر قدرت کی خاص عنایت ہے۔

واپس

نعیم احمد بلوچ

جناب نعیم احمدبلوچ 6 نومبر 1961ء کو ضلع قصور کے ایک گاؤں رام تھمن میں پیدا ہوئے۔ اسلامیات میں ایم اے پنجاب یونیورسٹی سے کیا۔ 1980ء میں جاوید احمد صاحب غامدی سے متعارف ہوئے اور المورد کی ابتدائی کلاسوں میں باقاعدہ شریک رہے۔ جب ماہ نامہ اشراق کا اجراء ہوا تو ابتدا ہی سے اعزازی طور پر اس سے منسلک رہے۔ 1984ء میں صحافت سے پیشہ وارنہ زندگی کا آغاز کیا۔ مختلف اخبار و جرائد سے منسلک رہے۔ 1994ء کو تعبیر پبلیشرز کے نام سے ایک مکتبہ قائم کیا جس کے زیر اہتمام بچوں کے لیے ماہ نامہ آنکھ مچولی کا اجراء کیا جو کہ چار برس تک باقاعدگی سے شائع ہوتا رہا۔ 2004 میں سپیریئر کالج سے اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے سے استعفا دے کر المورد کے ساتھ باقاعدہ منسلک ہوگئے۔

 انھوں نے بچوں اور نوجوانوں کے لیے
25 سے زائد کتب لکھی ہیں اور انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی سے نوجوانوں کے لیے بہترین ادیب برائے سال 1992ء کا ایوارڈ حاصل کیا۔ نیشنل بک فاؤنڈیشن اسلام آباد سے 1998ء سے ملکی سطح پر مقابلے میں ان کے مسودے کو پہلے انعام سے نوازا گیا۔ عام قارئین کے لیے بھی متعدد ادبی اور تاریخی موضوعات پر کتب لکھ چکے ہیں۔ اورگاہے گاہے اشراق میں مختلف موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

واپس

     

Copyright © ghamidi.net All rights reserved