HOME PAGE
HOME PAGE

خاندان

یہ سیکشن زیر تصنیف ہے ، جو مضامین مکمل ہوتے جائیں گے ، انھیں ترتیب وار سائٹ پر اپ لوڈ کیا جائے گا ۔

والد

یہ جناب جاوید احمد صاحب غامدی کی تحریر ہے جو ان کی کتاب مقامات سے لی گئی ہے۔

وہ ہستی دنیا سے رخصت ہو گئی جس کا وجود ہمارے لیے رحمت خداوندی کا سایہ تھا۔ 19 جنوری 1986 ء کی صبح والد محترم وفات پا گئے۔ ان کی خواہش تھی کہ اپنے پاؤں سے چلتے اس دنیا کو چھوڑیں۔ اللہ نے ان کی یہ خواہش پوری کر دی۔ وہ سوئے تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ اگلی صبح نہ دیکھیں گے۔ رات کو معمول کے مطابق تہجد کے لیے اٹھے وضو کیا معلوم ہوا سانس لینے میں کچھ دشواری محسوس کر رہے ہیں۔ ہم سب ان کے پاس چلے گئے۔ خیال تھا ابھی سنبھل جائیں گے۔ لیکن یہ دم ٹھیرنے کے لیے نہیں اکھڑا تھا۔ بستر کے پاس کھڑے تھے۔ ہم نے دیکھا وہ شاید لیٹنا چاہتے ہیں۔ میں نے مدد کی انھوں نے تکیے پر سر رکھا اور لمحوں میں ہم سے جدا ہو گئے۔
 

زندگی کا سفر انھوں نے اس بیسویں صدی کے ساتھ شروع کیا۔ بیس بائیس سال کے تھے کہ تصوف کی وادی میں قدم رکھا۔ پھر پوری زندگی وفا داری بشرط استواری کی تصویر بنے رہے۔ جسے دین سمجھا اس میں کبھی رخصت کی راہ تلاش نہیں کی۔ اپنے شیخ سے بے حد تعلق خاطر تھا۔ کبھی کبھی بڑے درد و سوز کے ساتھ یہ مصرع پڑھتے
 

چھوٹی عمرے پریت لگائی ہو گیا سی جو ہونا


میرے اور ان کے نظریات میں زمین و سمان کی دوری رہی۔ وہ مجھے اپنے نقطہ نظر کا قائل کرنے کی کوشش کرتے میں ان کے سامنے قرآن و سنت کا نقطہ نظر پیش کرتا۔ بحث و مناظرہ کی صورت بھی پیدا ہو جاتی لیکن اللہ کا شکر ہے کہ باہمی تعلق میں کبھی دوری پیدا نہیں ہوئی۔ گویا وہی معاملہ تھا کہ در نہایت دوری ہمیشہ با اویم وہ ہمیشہ میرے پاس رہے۔ حق یہ ہے کہ میں ان کی خدمت کا حق ادا نہ کر سکا لیکن اس میں شبہ نہیں کہ وہ اپنی محبت کا حق پوری طرح ادا کر گئے۔

ان کا بائی پیشہ زمین داری تھا۔ دادا مرحوم کی وفات کے بعد طب سے شغف ہوا۔ پھر اسی کے ہو رہے۔ جو کمایا اس میں سے اپنی ذات اور اپنے اہل و عیال پر بہت کم خرچ کیا۔ بارہا سب کچھ شیخ کی نذر کر دیا

دنیا کی ہر چیز سے بے تعلق رہے۔ غم اور خوشی کی ہر حالت میں مطمئن اور اپنے معمولات پر قائم۔ صبح نکلتے اکثر شام کو لوٹتے ۔ باہر جب دیکھا یہی محسوس ہوا کہ وہ صرف سفر سے دل چسپی رکھتے ہیں ان کی کوئی منزل نہیں ہے۔ گویا زبان حال سے کہہ رہے ہیں
 

بہ آشیاں نہ نشینم ز لذت پرواز

گہے بہ شاخ گلم گاہ برلب جویم


راہ چلتے جس طرح کسی کے پاس چند لمحوں کے لیے وہ بیٹھ جاتے تھے اسی طرح بیٹھے اور سفر ختم ہو گیا۔ ہم بے شک نہیں جانتے کہ ہمارا سفر کب ختم ہو گا لیکن ہم جانتے ہیں کہ اسے بہرحال ختم ہونا ہے۔ اس عالم کی سب سے بڑی حقیقت یہی ہے کہ
 

عاقبت منزل ما وادی خاموشان است

     

Copyright © ghamidi.net All rights reserved