HOME PAGE
 

وقار ملك

جمہوریت ___ قرآن کے حکم، تقاضے اور سوسائٹی کی ناگزیر ضرورت ہے

پاکستان میں جمہوریت کی بار بار ناکامی کے حوالے سے جب جاوید احمد غامدی صاحب سے گفتگو کا آغاز ہوا تو فرمانے لگے: اس حوالے سے میرا احساس وہی ہے، جو ملک میں اسلامی قانون کی ناکامی کے حوالے سے ہے۔ اسلامی قوانين کے موثر ہونے کی طرح جمہوریت کی کامیابی کے لیے بھی ضروری ہے کہ آپ قوم کی تہذیبی اقدار کو تبدیل کریں۔ ہم تہذیبی لحاظ سے پستی میں گر چکے ہیں، اس لیے کسی فوری بہتری کی امید یا توقع نہیں کی جا سکتی۔ کہا جاتا ہے کہ جمہوریت کے کچھ ستون ہوتے ہیں، جن میں پریس بھی ایک ستون ہے، جن پر یہ عمارت کھڑی ہوتی ہے، مگر ہمارے ہاں یہ عمارت بے ستون ہو چکی ہے۔ ملک میں قوانین نافذ ہیں، مگر وہ نتائج حاصل نہیں ہو رہے، جن کی ان قوانین کی موجودگی میں توقع کی گئی تھی۔ دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ ہندوستان اب دنیا کی سب سے بڑی جمہوری مملکت بن چکا ہے۔ میرے نزدیک ہندوستان اور پاکستان میں ایک بنیادی فرق ہے۔ بدقسمتی سے قیام پاکستان کے فوراً بعد بانیء پاکستان دنیا سے رحلت کر گئے۔ پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو بھی زیادہ عرصہ زندہ رہنے کا موقع نہ مل سکا، جبکہ ہندوستان میں پنڈت جواہر لعل نہرو اور مولانا ابو الکلام آزاد کو طویل عرصے تک قیادت کرنے کا موقع ملا۔ انھوں نے بھرپور طریقے سے اپنی قوم کی رہنمائی کی۔
ان حالات سے قطع نظر پاکستان میں جمہوریت اور کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ جمہوریت کا علاج محض جمہوریت ہی سے کیا جائے۔ کہا جاتا ہے کہ جمہوریت میں بڑی خرابیاں موجود ہیں، مگر ان کا اصل علاج بھی جمہوریت ہی ہے، مگر ہم اس معاملے میں بڑی بے صبری کا مظاہر ہ کرتے ہیں۔ (ہمارے ہاں برطانیہ کی طرح کوئی بادشاہت نہیں ہے کہ یہ کہا جا سکے، اس کو آہستہ آہستہ ختم کرنا مفید ہو گا) اب حل یہ تجویز کیا گیا ہے کہ فوج آ کر جمہوریت کی گاڑی کو پٹڑی پر چڑھائے۔ یہ اتنا خطرناک راستہ ہے، جس سے جمہوریت پر رہا سہا اعتماد بھی ختم ہو جائےگا۔ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف پر یہ اعتراض کیا گیا کہ وہ اداروں کو ختم کر رہے تھے۔ جس وزیراعظم کو، خواہ وہ نواز شریف ہو یا کوئی اور، بندوق نظر آ رہی ہو، وہ اداروں کو ختم نہیں کرے گا تو اور کیا کرےگا۔
مگر میاں نواز شریف پر ایک اعتراض یہ بھی کیا جا رہا تھا کہ وہ قوم کی خدمت کرنے کے بجائے اختیارات اکٹھے کرنے میں مصروف ہو چکے تھے، جس کے تناظر میں ان کے سول آمر بننے کا خدشہ نظر آ رہا تھا؟
میاں محمد نواز شریف کس طرح اور کیسے آمر بن سکتے تھے، آخر ملک میں تمام آئینی ادارے موجود تھے، ایسا تو نہیں ہوا کہ انھوں نے بولنے پر پابندی لگادی تھی۔ ان کے دور میں پریس آزاد تھا اور وہ کھل کر ان کے بارے میں لکھ رہا تھا۔ آپ جمہوریت کو چلنے تو دیں، اس کی خرابیوں کا علاج خود بخود ہوتا چلا جائےگا۔ اب کوئی آسمان سے مسیحا تو نازل نہیں ہوگا۔ فوج کو آپ ایوب خاں، يحيیٰ خاں، جنرل ضیاء الحق کے ادوار میں آزما چکے ہیں، ان کے ادوار کے نتائج بھی آپ کے سامنے ہیں۔ دوسری طرف فکری لحاظ سے بھی ہمارے پاس جمہوریت کے علاوہ کوئی اور چوائس نہیں ہے۔


سوال: کیا آپ کے نزدیک جمہوریت عین اسلام ہے؟
جواب: جی ہاں، آپ کہہ سکتے ہیں کہ ایک ایسی حکومت جو مسلم عوام کی مرضی سے منتخب ہو، اس میں کوئی غیر اسلامی بات نہیں ہوگی۔ اس سے مختلف حکومتوں کو گوارہ تو کیا جا سکتا ہے، مگر اسلامی حکومت نہیں کہا جا سکتا۔ اسلام میں حکومت اتفاق رائے سے قائم ہوتی ہے اور آپ اس کو اپنے تمدن کے لحاظ سے کوئی بھی صورت دے سکتے ہیں۔ اسلام پارلیمانی یا صدارتی نظام میں سے نہ کسی کو غلط قرار دیتا ہے اور نہ ان میں سے کسی کو اپنانے کا پابند کرتا ہے۔ آپ کو اپنے ملک کے لحاظ سے اپنی تہذیب، تمدن، ثقافت کے تناظر میں فیصلہ کرنا ہوگا، اس لیے اس معنی میں میرے خیال میں جمہوریت عین اسلام ہے، بلکہ یہ ایمانیات کا حصہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کئی اسلامی ممالک میں اس کے تجربات ہو رہے ہیں، مگر بدقسمتی سے مسلمانوں کی نفسیات میں آمریت داخل ہو چکی ہے۔ میں کئی معروف مذہبی لوگوں سے واقف ہوں کہ آمریت جن کے مزاج کا حصہ بن چکی تھی اور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض مذہبی قائدین فوجی آمروں کو بھی یہ کہتے رہے کہ آپ شریعت نافذ کر دیں، سب کچھ ٹھیک ہو جائےگا۔ شریعت کا حکم ہے کہ حکمرانوں پر عوا م کا اعتماد ہونا چاہیے۔ میرے خیال میں جمہوریت، آمریت اور ملوکیت کے مقابلے میں آئیڈیل نظام ہے۔ میں اس معاملے میں حساس بھی ہوں اور جذباتی بھی۔ جمہوریت تو اس بات کا نام ہے کہ فکر کی آزادی ہو، میں اسے قرآن مجید کے حکم کا تقاضا بھی سمجھتا ہوں اور سوسائٹی کے لیے ناگزیر ضرورت بھی۔ ورنہ مسلمانوں کی تاریخ بادشاہوں سے شروع ہو کر بادشاہوں پر ختم ہو جاتی ہے۔


سوال: آپ کے خیال میں پاکستان کے حالات کے تناظر میں ايما ن دار ، باصلاحیت اور تجربہ کار قیادت کس طرح سے آگے آ سکتی ہے؟
جواب: یہ قیادت قوانین سے آگے نہیں آئے گی، اس کے لیے آپ کو ہنگامی بنیادوں پر نظام تعلیم، ذرائع ابلاغ اور دینی اداروں کو درست کرنا ہوگا، جب تک آپ ان تینوں کو درست نہیں کر دیتے، اس وقت تک کسی قانون کے ذریعے ايمان دار، باصلاحیت اور تجربہ کار قیادت آگے نہیں آ سکتی۔ ہمارے آئین کی شق نمبر ٦٢ اور ٦٣ میں اسمبلی کے امیدوار کے لیے کیا کچھ نہیں لکھا گیا، لیکن جس سوسائٹی میں تمام ادارے کرپٹ ہوں، وہاں کس طرح سے ان قوانین پر عمل درآمد ممکن ہے؟ بہرحال اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ الیکشن قوانین کو بہتر اور موثر بنایا جائے۔ بالخصوص الیکشن کمیشن کو وسیع اختیارات ديے جائیں، تاکہ وہ بآسانی ان قوانین پر عمل درآمد کروا سکے۔


سوال: آپ جمہوریت کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کے کردار پر کیا تبصرہ کرتے ہیں۔ بالخصوص مذہبی اور سیاسی جماعتوں کا موازنہ کس انداز سے کرنا پسند فرمائیں گے؟
جواب: میں اس حوالے سے مذہبی جماعتوں کے کردار کو کم سے کم یا نرم سے نرم الفاظ میں شرم ناک ہی قرار دوں گا۔ اصل میں اس حمام میں سیاسی اور مذہبی دونوں جماعتیں ننگی ہیں۔ ذرا غور فرمائیں کہ نواز شریف دور حکومت میں مذہبی جماعتوں کی طرف سے مطالبہ ہوتا ہے کہ وہ اقتدار سے مستعفی ہو جائیں۔ ایک مذہبی جماعت کی قیادت کہتی ہے کہ اقتدار ہمارے حوالے کر دیا جائے، مگر کس قانون اور ضابطہ کے تحت اس کا ذکرنہیں کیا جاتا۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ان ہی جماعتوں نے بین السطور فو ج کو دعوت دی تھی کہ وہ آگے بڑھ کر اقتدار پر قبضہ کرے، جبکہ عوام میں ان کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ جب بھی انھوں نے الیکشن میں حصہ لیا، انھیں انتہائی مایوس کن نتائج کا سامنا کرنا پڑا، انھیں اپنی حقیقت، یعنی عوام میں مقبولیت پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنا چاہیے اور اقتدار حاصل کرنے کے بجائے اپنے حلقہ کو بڑھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اگرچہ اس وقت بھی پاکستان کے بعض علاقوں، بالخصوص سندھ اور جنوبی پنجاب میں بدترین جاگیرداری نظام موجود ہے، مگر پھر بھی ہمارے ہاں پارلیمنٹ میں تناسب بہتر ہو رہا ہے، آپ بری جمہوریت کو چلنے دیتے، خود احتسابی کا نظام فروغ پا سکتا تھا۔
اب ہم کسی مسیحا کی تلاش میں بیٹھے ہیں کہ کہیں سے کوئی خمینی آ جائے، ہماری توجہ اداروں کے بجائے شخصیات پر مرکوز ہے، جبکہ مغرب نے سوسائٹی کی بنیاد شخصیات کے بجائے اداروں پر رکھی ہے اور کامیابی حاصل کی ہے۔


سوال: ایک معروف مذہبی شخصیت کا کہنا ہے کہ آپ مجھے تین ماہ حکومت دیں، سارے مسائل حل کر دوں گا، ایسا کیسے ممکن ہے؟
جواب: آج مغرب کے جس نظام کی دنیا قدر کرتی ہے، اس کوموجودہ شکل میں آنے کے لیے دو سو سال کا عرصہ لگا۔ آج اداروں کا حشر آپ کے سامنے ہے، دینی اداروں کی صورت حال بھی سب کو معلوم ہے، انھیں اداروں کا شعور ہی نہیں، انھیں معلوم ہی نہیں کہ سوسائٹی کہاں سے بنتی ہے اور اس کی تعمیر کس طرح سے ہوتی ہے۔ میرے خیال میں ہمیں سوسائٹی کی تعمیر یا حالات کی اصلاح کے لیے کم از کم پچاس سال کا عرصہ درکار ہے۔ تین ماہ میں سارے مسائل حل کرنے والی بات ایسے ہی ہے، جیسے کوئی شخص کسی ان پڑھ کو یہ کہہ دے کہ میں آپ کو چند ہفتوں میں ایم اے کروا دوں گا۔ یہ کیسے ممکن ہے؟ آپ کو مسائل کی نوعیت اور حقیقت کو سامنے رکھ کر ٹھیک بات ہی کرنی چاہیے۔ سوسائٹی محض سبحان اللہ کہنے سے تو تبدیل نہیں ہو سکتی۔

(جمعرات ٧ محرم الحرام ١٤٢١ھ/ ١٣ اپریل ٢٠٠٠)

ـــــــــــــــــ

واپس

 
     
Copyright © ghamidi.net All rights reserved