HOME PAGE
 

وقار ملك

اسلام کی روشنی میں ٹیکسوں سے نجات کا واحد علاج

آج پاکستانی عوام انکم ٹیکس، سيلز ٹيکس ،ویلتھ ٹیکس، جنرل سیلز ٹیکس غرض ٹیکس ہی ٹیکس کے چکروں میں الجھ کر رہ گئے ہیں۔ عوام جس قدر ٹیکسوں سے جان چھڑانا چاہتے ہیں، اسی قدر مزید ٹیکس ان پر مسلط کرديے جاتے ہیں۔ نتیجتاً فطری طور پر عوام میں ایک اضطراب کی کیفیت جنم لے چکی ہے۔ اکثر لوگ ٹیکسوں سے جان چھڑانے کے لیے جھوٹ بولنے اور رشوت دینے سے بھی گریز نہیں کرتے، جس کی وجہ سے حکومت کا ٹیکسوں کی مدد سے آمدنی کا ٹارگٹ پورا نہیں ہوتا اور پھر حکومت عوام کو ایک نئے ٹیکس کا مژدہ سنا دیتی ہے۔


سوال: اس صورت حال کے تناظر میں جب میں نے جاوید احمد غامدی صاحب سے پوچھا کہ آپ کے خیال میں ٹیکس سے کیا مراد ہے اور اس کے اغراض و مقاصد کیا ہوتے ہیں؟ اسلامی نظام میں ٹیکس کا تصور کیا ہے؟ تو وہ فرمانے لگے:
جواب: سوسائٹی جب یہ فیصلہ کرتی ہے کہ وہ ایک ریاست کی سطح پر اپنے آپ کو منظم کرے گی تو اس میں دو طرح کے اخراجات پیدا ہوتے ہیں، ایک نظم حکومت چلانے کے اخراجات اور دوسرے اجتماعی بہبود پر اٹھنے والے اخراجات۔ آپ سڑکیں، ریل، ہسپتال بنائیں گے، اسی طرح سوسائٹی کی کئی دوسری اجتماعی ضروریات پورا کرنے کا اہتمام کریں گے، اس لیے ریاست اور ٹیکس لازم و ملزوم ہیں۔
ٹیکس اصل میں سوسائٹی کی Continuation ہے تاکہ حکومت اس کے اجتماعی نظم کو چلا سکے اور بحیثیت مجموعی اس کے معیار زندگی کو بہتر بنا سکے۔ اس لیے یہ بات کہ ٹیکس ختم کیا جا سکتا ہے، کیا ٹیکس کے بغیر کوئی سوسائٹی چلائی جا سکتی ہے، درست تصور نہیں کی جا سکتی۔
لہٰذا میرے نزدیک اصل غور طلب بات ٹیکس کی مقدار متعین کرنا ہے اور اس بات کا فیصلہ کرنا ہے کہ کس پر لاگو کرنا ہے اور کتنا کرنا ہے اس کا حق کس کو ہو نا چاہیے اب تک ...............کی تاریخ میں اس کے تین جوابات دیے گئے ہیں:
ایک یہ کہ اس کا حق سوسائٹی پر حکمرانی کرنے والے بادشاہوں کو ہے، یعنی یہ بادشاہ کا صوابدیدی اختیار ہے کہ جس قدر مناسب سمجھے سوسائٹی پرٹيکس عائد کر دے۔
دوسرا جواب یہ ہے کہ یہ حق سوسائٹی کے نمائندوں کو ہے، چنانچہ بادشاہوں کا اختیار جب امریکہ اور یورپ میں چیلنج کیا گیا تو یہ نعرہ بہت مقبول ہواNo Texation without Representaion یعنی ٹیکس لگانے کا اختیار صرف عوام کے نمائندوں کو حاصل ہے۔
تیسرا جواب یہ ہے کہ یہ حق نہ کسی انسان کو ہے اور نہ ہی انسانوں کے نمائندوں کو حاصل ہے، بلکہ یہ حق صرف اور صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اکرم کو حاصل ہے۔
اسلامی نقطہء نظر سے یہی تیسری بات درست ہے۔ دنیا کے تجربے نے ثابت کر دیا ہے کہ بادشاہوں سے ٹیکس لگانے کا اختیار چھین لینے کے بعد بھی ٹیکس کے نام پر حکومت کے ظلم و استبداد کا خاتمہ نہیں کیا جا سکا، وہ جتنی قسم کے ٹیکس چاہتی ہے، لگاتی چلی جاتی ہے اور یہ فیصلہ کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے کہ ٹیکس کی کیا مقدار ہے، جسے منصفانہ قرار دیا جا سکے۔
عوام ہر سال بجٹ کے موقع پر دل تھام کر بیٹھے ہوتے ہیں کہ معلوم نہیں ان پر ٹیکس کے نام پر کیا افتاد پڑتی ہے۔ یہ ٹیکس لگانے کا اختیار سوسائٹی کے مجموعی نظام پر جو برے اثرات چھوڑتاہے، اس کے کئی پہلو بیان کیے جا سکتے ہیں، لیکن بات بہت دور نکل جائےگی۔ اس لیے میں یہ کہنے کی جسارت کر رہا ہوں کہ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کی یہ بہت بڑی نعمت حاصل ہے کہ ان کے اور ان کی حکومتوں کے مابین ان کے پروردگار نے ہمیشہ کے لیے حتمی طور پر اس مسئلے کا فیصلہ کر دیا ہے۔ قرآن مجید اس معاملے میں بالکل صریح ہے کہ حکومت مسلمانوں پر زکوٰۃ کے علاوہ کوئی ٹیکس عائد نہیں کر سکتی۔ حکومت ہمیشہ کے لیے پابند ہے کہ جو چادر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اکرم نے فراہم کر دی ہے، اسی میں پاؤں پھیلائے۔ زکوٰۃ کیاہے؟ وہ کس طریقے سے لاگو کی جائےگی؟ اس معاملے میں میری تحقیق اور دوسرے علما کے نقطہء نظر میں بہت فرق ہے۔
میرے خیال میں ہمارے معاشرے میں زکوٰۃ کو حکومت کا ایک اور ٹیکس قرار دیا گیا ہے۔ بجائے اس کے کہ زکوٰۃ کی شکل میں واحد ٹیکس وصول کیا جائے، اس کو تمام ٹیکسوں کے ساتھ ایک اور ٹیکس بنا دیا گیا ہے، لہٰذا یکم رمضان المبارک کو زکوٰۃ کی کٹوتی کے موقع پر بڑے بڑے متدین زکوٰۃ سے بچنے کے لیے بینکوں میں وہی حیلے تلاش کر رہے ہوتے ہیں، جو عام لوگ ٹیکس سے بچنے کے لیے اختیار کرتے ہیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ اگر زکوٰۃ کا صحیح تصور واضح کیا جائے اور اس کے علاوہ تمام ٹیکس ختم کرديے جائیں تو ہماری سوسائٹی میں ٹیکس کے حوالے سے حکومت، عوام کشمکش ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی۔


سوال: آج عوام اپنے ادا کردہ ٹیکسوں کا جو حشر دیکھتے ہیں، اس کے تناظر میں کیا وہ یہ سوچنے میں حق بجانب نہیں کہ وہ ٹیکس کیوں دیں؟
جواب: نہ صرف یہ کہ وہ ایسا سوچنے میں حق بجانب ہیں، بلکہ ان کے اوپر گزرنے والے ستم کی روداد سن کر ہر حساس آدمی یہ کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ اس ظلم سے نجات کی کوئی راہ تلاش کرنا ممکن ہو تو ضرور کرنی چاہیے۔ اس وقت کے نظام میں کسی شریف آدمی کے لیے یہ فیصلہ کر لینے کے بعد بھی کہ اس نے پورا ٹیکس دینا ہے، اپنے اس فیصلہ پر عمل کرنا ممکن نہیں اور اپنے ٹیکسوں کے استعمال کا حشر دیکھنے کے بعد اپنے اس جذبے پر قائم رہنا ممکن نہیں ہے کہ وہ قوم کا یہ حق ٹھیک ٹھیک ادا کرے۔


سوال: آج ترقی یافتہ ممالک کے عوام ٹیکس کو زیادتی یا بوجھ نہیں سمجھتے، بلکہ ان کے خیال میں یہ ایک قومی فریضہ ہے جو نہ صرف ان کے ملک اور قوم کی ضرورت ہے، بلکہ ان کی خوش خالی کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان ممالک کے عوام کے ذہنوں میں یہ بات کس طرح سے بیٹھ گئی؟
جواب: ترقی یافتہ ممالک میں تمام تہذیبی ادارے بتدریج ترقی کر کے اس مقام پر پہنچے ہیں، جہاں اب حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ قائم ہوگیا ہے اور مستحکم جمہوری اقدار کے پیش نظر عوام مطمئن ہوتے ہیں کہ حکوت ان کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچائے گی۔ حکومت بھی بالعموم اس کا تصور نہیں کر سکتی کہ وہ کبھی عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائے۔ لہٰذا لوگ خوشی کے ساتھ ٹیکس دیتے ہیں، لیکن اس کے یہ قطعی معنی نہیں ہیں کہ وہاں اس حوالے سے مسائل درپیش نہیں آتے۔ وہاں بھی یہ بنیادی مسئلہ موجود ہے کہ ٹیکس کی منصفانہ مقدار کس اصول پر طے کی جائے۔


سوال: آج وطن عزیز میں جہاں ٹیکسوں کے نظام کی حالت اور ان کا مصرف آپ کے سامنے ہے، وہاں ملکی معیشت قرضوں اور ان کے سود کی ادائیگی کے معاملہ سے بھی آپ یقینًا بے خبر نہیں۔ ان حالات کے تناظر میں صورت حال میں بہتری کس طرح سے ممکن ہے۔ کیا ان حالات میں بھی محض زکوٰۃ بطور ٹیکس کافی ہے؟
جواب: میں سمجھتا ہوں کہ اگر یہ بنیادی حقیقت تسلیم کر لی جائے جس کا میں نے ذکر کیا ہے کہ اسلامی حکومت مسلمانوں پر زکوٰۃ کے علاوہ کوئی ٹیکس عائد نہیں کر سکتی، تو اس حوالے سے ہمارے تمام مسائل جلد از جلد ختم ہو جائیں گے۔ یہ درست ہے کہ آج ہماری معاشی حالت بے حد خراب ہے، مگر پھر بھی میں کہوں گا کہ اگر آپ تمام مسلمانوں سے بلا تمیز زکوٰۃ وصول کرتے ہیں تو فوری طور پر موجودہ حالات سے کئی گناہ بہتر حالات پیدا ہوتے دکھائی دیں گے۔


سوال: مگر ماضی میں حکومت کی طرف سے زکوٰۃ کے حوالے سے مسلمانوں کے ایک مکتبہء فکر کو جو چھوٹ دی گئی ہے اور اس چھوٹ کے پیش نظر دوسرے مکاتب فکر کے کئی لوگوں نے جھوٹ بول کر جس طرح سے زکوٰۃ نہیں دی، ان حالات میں کس طرح سے زکوٰۃ کی مدد سے اتنی رقم اکٹھی ہو سکتی ہے، جو حکومت اور عوام کی ضروریات پوری کر سکے؟
جواب: زکوٰۃ اسلام کا پبلک لا ہے اور یہ ہر اس شخص پر، جو اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتا ہے، خواہ وہ شیعہ ہے یا سنی، لازم ہے۔ کسی مکتبہء فکر سے زکوٰۃ وصول نہ کرنا محض حکومت کی کمزوری ہے، اسے کوئی دوسرا نام نہیں دیا جا سکتا۔ اس لیے جب تمام مسلمان پبلک لا کی روشنی میں زکوٰۃ ادا کریں گے تو مشکلات کے بھنور سے نکلنے کی صورت ضرور پیدا ہوتی دکھائی دے گی۔
نوٹ، زکوٰۃ کے حوالے سے ذہن میں ابھرنے والے متعدد سوالات اور ان کے بارے میں جاوید احمد غامدی صاحب کا نقطہء نظر آیندہ مکالمہ میں شائع کیا جائےگا۔(ادارہ)

جمعۃ المبارک ٢٧ شوال ١٤٢٠ھ/ ٤ فروری ٢٠٠٠

ـــــــــــــــــــــ

واپس

 
     
Copyright © ghamidi.net All rights reserved